Tuesday 23rd April 2024 05:01:02 PM

محفوظ سرمایہ کاری: پاکستان میں ’ڈبل شاہ‘ جیسی پونزی سکیموں سے کیسے بچا جائے؟

محفوظ سرمایہ کاری: پاکستان میں ’ڈبل شاہ‘ جیسی پونزی سکیموں سے کیسے بچا جائے؟

’ڈبل شاہ ایک نیک آدمی ہے، غریبوں کی مدد کرتا ہے۔ پولیس نے ایک سازش کے تحت اسے پکڑا ہے، وہ آئے گا اور چھا جائے گا۔‘ سنہ 2007 میں جب پولیس نے لوگوں کو رقم دگنی کرنے کا جھانسہ دینے کے الزام میں سبط الحسن عرف ڈبل شاہ کو گرفتار کیا تو پنجاب کے شہروں بالخصوص گوجرانوالہ اور وزیر آباد میں اس گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شریک ایک شخص نے بی بی سی کو یہ بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ سبط الحسن پولیس کی تحویل میں تھے اور قومی احتساب بیورو (نیب) میں ہونے والی تحقیقات سے بظاہر یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ انھوں نے عوام کو جھانسہ دیا تھا، لیکن یہی عوام اُن کی گرفتاری کے خلاف ’ایک اللہ ایک رسول، ڈبل شاہ بے قصور‘ کے نعرے سٹرکوں پر لگاتے اُن کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ نیب کے مطابق سبط الحسن ایک سکول ٹیچر تھے۔ پھر وہ نوکری چھوڑ کر کچھ عرصے کے لیے دبئی گئے اور وہاں سے لاکھوں روپے کما کر واپس وطن لوٹے۔ معاشرے میں اُن کی عزت تھی۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ بات زیر بحث رہی تھی کہ انھوں نے اس ’سکیم‘ میں ابتدائی سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کو 100 فیصد منافع کے ساتھ چند ہفتوں یا مہینوں میں پیسے ڈبل بھی کر کے دیے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ابتدائی کامیابیوں کے بعد اُن پر لوگوں کا اعتماد بڑھ چکا تھا اور اب ہر کوئی اپنی قسمت آزمانے کے لیے ڈبل شاہ کی سکیم کو صحیح مان کر اس میں حصہ لینا چاہتا تھا۔ بعدازاں سبط الحسن پر جعلسازی کے الزامات ثابت ہوئے اور نیب کے ساتھ ان کی پلی بارگین طے پائی، تو کچھ لوگوں کو ان کی رقوم واپس مل گئیں لیکن بعض ہمیشہ کے لیے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔ سرمایہ کاری کے نام پر جعلی ’پونزی سکیمز‘ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کئی طرح کی جعلی سکیمیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، جن میں کم پیسوں کے بدلے قرضے، رہائشی پلاٹ، انشورنس، بڑے انعام یا نوکری کی پیشکش کی جاتی رہی ہیں۔ پونزی سکیم سے مراد سرمایہ کاری کی ایک ایسی پیشکش ہے جس میں کوئی کمپنی یا فرد سرمایہ کاروں کے پیسے ہتھیانے کے لیے انھیں دھوکہ دیتے ہیں۔ آج بھی معروف امریکی جعل ساز چارلز پونزی کے نام پر ان سکیمز کو پہچانا جاتا ہے۔ چارلز پونزی نے 1920 کی دہائی میں ہزاروں افراد کا سرمایہ اس وعدے پر حاصل کیا تھا کہ وہ 90 دنوں میں انھیں 50 فیصد منافع کما کر دے سکتے ہیں۔ پونزی سکیم کی ایک قسم ’پیرامڈ سکیم‘ میں جعل ساز نئے سرمایہ کاروں سے پیسے وصول کر کے پرانے یا ابتدائی سرمایہ کاروں میں بانٹ دیتے ہیں تاکہ انھیں یہ تاثر دیا جا سکے کہ منافع ہوا ہے۔ ان پیسوں سے سرمایہ کاری کے بجائے مزید سرمایہ کاروں کو دعوت دی جاتی ہے تاکہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رکھا جا سکے۔ پیرامڈ سکیم' میں جعل ساز نئے سرمایہ کاروں سے پیسے وصول کر کے پرانے یا ابتدائی سرمایہ کاروں میں بانٹ دیتے ہیں تاکہ انھیں یہ تاثر دیا جا سکے کہ منافع ہوا ہے مثلاً 1990 کی دہائی میں ’بی سی سی آئی‘ نامی ایک بینک کے حوالے سے اربوں ڈالر کی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے جن میں صارفین کی جانب سے جمع کروائی گئی رقوم کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا، جعلی ادائیگیاں کی گئی تھیں اور شیئرز کی غیر قانونی خرید و فروخت ہوئی تھی۔ ایک دوسری مثال 2000 کی دہائی میں تاج کمپنی کی ہے جس کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے اقدامات کیے تھے۔ یہ کمپنی قرآن کی ناشر تھی اور اُن پر اعتماد کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے انھیں اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی جمع سرمایہ کاری کی غرض سے دی تھی۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ملک کا وہ ادارہ ہے جو مالیاتی و کاروباری اداروں کی نگرانی کرتا ہے۔ ماضی میں اس نے ٹائنز، یونیکو، بی ایچ آن لائن جابز، کارپوریٹ آٹو موبائلز، بیسٹ ڈے سلوشنز سمیت ایسی کئی کمنپیوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سرمایہ کاری کی مشکوک سرگرمیاں ہوتی ہیں اور بالواسطہ یا بلاواسطہ پونزی سکیمز کے ذریعے لوگوں کو جھانسہ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں عوامی آگاہی کے سلسلے میں ایس ای سی پی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کو سرمایہ کاری کی سکیمز میں حصہ لینے سے پہلے محتاط رہنا چاہیے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کوئی سکیم جعلی ہو سکتی ہے خاص طور پر اگر اس میں لوگوں سے پیسے وصول کرنے کے بدلے کم نقصان کے ساتھ بڑے منافع کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں جعلسازی کی مختلف سکیمز دیکھی گئی ہیں، ان کی کچھ اقسام یہ ہیں: پیرامڈ سکیمز: جن میں ابتدائی سرمایہ کاروں کو نئے سرمایہ کاروں کے ذریعے منافع دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو پھنسایا جا سکے آن لائن نوکری کے نام پر لوگوں سے پیسے بٹورنا قسطوں پر گاڑیاں، موٹر سائیکل، گھر یا دیگر الیکٹرانکس کی اشیا دینے کے وعدے پر لوگوں سے پیسے جمع کرانے کا مطالبہ مستند لائسنس کے بغیر بینکاری کا کاروبار کھولنا نوکریوں کے لیے جعلی اشتہارات جن میں کچھ ٹیسٹنگ کمپنیوں کا سہارا لیا جائے ایسی کوئی بھی سکیم جس میں ایک کمپنی صارفین سے ایڈوانس میں بڑی رقم کا مطالبہ کرے ایس ای سی پی کے مطابق کئی کمپنیاں لوگوں کو بڑے منافع کی لالچ دے کر پھنساتی ہیں اور ان کی تشہیر کے لیے مقامی اخبار، سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کا استعمال کرتی ہیں۔ ’قانون کے مطابق ایسی سکیمز، سرگرمیاں اور کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔ (لائسنس یافتہ) بینکوں کے علاوہ کوئی بھی کمپنی لوگوں سے رقم جمع کرانے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ ’مشکوک سرگرمیوں میں شامل کمپنیوں کے خلاف ماضی میں بھی ایس ای سی پی نے قانون کے مطابق عدالتی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔‘ لیکن یہاں ایک اور بات بھی بتانا ضروری ہے۔ اگر کوئی کمپنی ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگوں سے کسی جعلی سکیم کے لیے رقم وصول کر سکتی ہے۔ نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنے سرمایے کے حوالے سے خود بھی احتیاط برتنی چاہیے اور کسی کمپنی یا فرد کی جانب سے گمراہ ہونے سے بچنا چاہیے۔ محفوظ سرمایہ کاری کیسے ممکن ایس ای سی پی کے مطابق سرمایہ کاری کے ہر موقع میں خطرہ موجود ہوتا ہے۔ جعلسازی سے بچنے کے لیے لوگوں کو باقاعدگی سے اپنی سرمایہ کاری کی نگرانی کرنی چاہیے۔ انھیں نقصان سے بچنے کے لیے اس کی قدر میں اونچ نیچ کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ شیئر ہولڈر کو کاروبار کی سالانہ رپورٹ، بیلنس شیٹ، منافع، نقصان اور آڈیٹر کی رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے وہ اس کاروبار کی سالانہ جنرل میٹنگز میں براہ راست یا کسی کے ذریعے حصہ لے سکتے ہیں جس میں وہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں انھیں جنرل میٹنگز میں منظوری کے بعد بروقت منافع دیا جائے اور دیگر مراعات دی جائیں جیسے شیئرز، بونس وغیرہ کوئی بھی سرمایہ کار ایس ای سی پی سے رابطہ کر کے ان سے کمپنی کے حوالے سے تحقیقات کرنے کی درخواست دے سکتا ہے سٹاک ایکسچینج کی صورت میں سرمایہ کار یہ دیکھ سکتے ہیں کہ آیا ان کا ایجنٹ ایس ای سی پی کی رجسٹرڈ بروکر کمپنی کے ساتھ منسلک ہے۔ صرف رجسٹرڈ بروکر لوگوں سے پیسے وصول کر کے رجسٹرڈ ایکسچینج (جیسے پاکستان سٹاک ایکسچینج) میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے لوگ سرمایہ کاری سے قبل یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا یہ کمپنی لائسنس یافتہ ہے۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کمپنی کس شعبے میں سرمایہ کاری کرتی ہے تاکہ آپ کی رقم سے محفوظ اور شفاف سرمایہ کاری ممکن ہو سکے۔ ’نقد پیسوں کی جگہ ادائیگی کا ریکارڈ ضروری‘ مالیاتی مشاورتی کمپنی کیپیٹل سٹیک میں ڈائریکٹر ریسرچ ماہا جعفر بٹ کا کہنا ہے کہ کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے قبل ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ ’کمپنی ہے، فرد نہیں۔‘ ’چاہے کوئی آپ کا رشتہ دار ہے، دوست ہے یا دفتر میں آپ کے ساتھ کام کرتا ہے، آپ سرمایہ کاری سے قبل ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کے پیسے کہاں استعمال کیے جائیں گے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’آپ اس کمپنی کے دفتر خود بھی جا سکتے ہیں، یہاں اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔۔۔ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ کمپنیوں کی فہرست موجود ہوتی ہے۔ یہ معلومات بھی موجود ہوتی ہے کہ آیا اس کمپنی کے خلاف کوئی تحقیقات چل رہی ہے یا نہیں۔‘ ان کے مطابق دوسرا اصول یہ ہے کہ ’آپ کبھی بھی کسی کو نقد پیسے نہ دیں۔ ہمیشہ پیسے کسی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائیں تاکہ اس ادائیگی کو ٹریس کیا جا سکے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ سرمایہ کاری کے دوران پیسوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے لوگوں کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہونا چاہیے۔ ’بہتر یہ ہو گا کہ آپ کسی ایسی کمپنی میں سرمایہ کاری کریں جس کا نام پہلی مرتبہ نہ سنا ہو۔ یا پھر نئی کمپنی کی صورت میں اسے تجربہ کار افراد چلا رہے ہوں۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ آج کل کسی بھی کمپنی کی سالانہ مالیاتی رپورٹ حاصل کی جا سکتی ہے جس میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ یہ کوئی جعلی سکیم نہیں ہے۔ ’اگر آپ کسی بروکر کے ساتھ سرمایہ کاری کر رہے ہیں تو آپ اپنے سی ڈی سی اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرا سکتے ہیں۔ سی ڈی سی ایک مرکزی نگراں ادارہ ہے جو آپ کے پیسوں اور شیئرز کا ضامن ہوتا ہے۔‘ ماہا کہتی ہیں کہ ان سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے آپ روزانہ کی بنیاد پر اپنے پیسوں اور شیئرز کا حساب رکھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر آپ کسی کو نقد پیسے دیتے ہیں، یعنی وہ پیسے کسی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوئے، تو انھیں ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے۔