Tuesday 23rd April 2024 04:57:50 PM

معیشت اور جمہوریت: پاکستان کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے؟

معیشت اور جمہوریت: پاکستان کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے؟

پاکستان کی معیشت گذشتہ کچھ عرصے سے بڑی مشکلات کا شکار ہے، اور خاص کر گذشتہ ایک سال پاکستان کے لیے معاشی محاذ پر کافی تباہ کن رہا ہے۔

اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ایک کامیاب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بیدخلی کے بعد جنم لینے والی سیاسی صورتحال نے موجودہ معاشی بحران کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔

پاکستان اپنی گرتی ہوئی معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مسلسل بیل آؤٹ پیکج کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن پی ڈی ایم حکومت کی بظاہر کئی ماہ سے جاری یہ کوششیں ثمرآور ثابت نہیں ہو پا رہی ہیں۔

ایسے میں یہ سوالات اب شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان واقعی ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے؟ کیا پاکستان میں جمہوریت خطرے میں ہے؟ اور موجودہ حالات کی بنیاد پر ملک کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں حالیہ سیاسی کشیدگی کا آغاز عمران خان کی اقتدار سے بیدخلی سے کچھ عرصہ قبل ہی شروع ہو چکا تھا مگر اس میں تیزی اس وقت آئی جب جلد از جلد نئے عام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ لیے چیئرمین تحریک انصاف نے ملک گیر تحریک چلانے کی ابتدا کی۔

عمران خان پر ہونے والے ایک مبینہ قاتلانہ حملے اور بلآخر 9 مئی کو سابق وزیر اعظم کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری اور اس کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں نے صورتحال کو ابتر کر دیا۔

گرفتاری کے خلاف مظاہرین نے اپنا غصہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر نکالا اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بڑی پیشرفت نے پاکستانی فوج کو، جس کے افسران پر سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریروں کے دوران کڑی تنقید کرتے رہے ہیں، عوام میں اپنا کھوئی ہوئی ساکھ واپس حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

ماہرین کے مطابق نومئی کے تناظر میں شروع کیے گئے اقدامات کے بعد عمران خان اب بظاہر بیک فٹ پر نظر آ رہے ہیں جب کہ ان کی پارٹی ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہے۔ روئٹرز کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں عمران خان نے ایک مرتبہ پھر الزام عائد کیا ہے کہ ان کی پارٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ملٹری اسٹیبلیشمنٹ ملوث ہے۔ تاہم ماضی قریب میں فوج متعدد مواقع پر سیاست میں مداخلت جیسے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

نومئی کے واقعات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں، ان کے حامیوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کو ہراساں کیا گیا، گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی جبکہ آرمی تنصیبات پر حملوں میں ملوث پارٹی کے چند کارکنوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات بھی چلائے جا رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں عالمی دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے پاکستان میں ہونے والی پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیانات دیے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں لکھا کہ ’فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل کرنا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔‘ دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں بند کرے۔

حال ہی میں امریکی ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلکن کو ایک خط لکھا ہے جس میں امریکی قانون سازوں نے بائیڈن حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں جمہوری اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالے۔